23 جولائی 2013 - 19:30

ایسے ميں جبکہ شامی نظام کے مخالف دہشت گرد گروہوں کی حمایت میں، امریکہ اور اس کےعلاقائی اتحادیوں کی مداخلت پسندانہ پالیسیوں نے اس ملک کو خونریز جنگ ميں دھکیل دیاہے ، اقوام متحدہ میں امریکہ اور صہیونی حکومت کے نمائندوں نے ایک فریب کارانہ موقف اپناتے ہوئے ایران پر شام میں مداخلت کا الزام لگایاہے ۔

ابنا: اقوام متحدہ ميں امریکہ کے نمائندے سامانتا پاور نے ، مشرق وسطی کے علاقے کی تبدیلیوں کے جائزے کے سلسلےميں منعقد ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں دعوی کیا ہے کہ شام کی حکومت ، ایران اور حزب اللہ کی حمایت سے شام کے باشندوں کا قتل کررہی ہے ۔ اقوام متحدہ میں صہیونی حکومت کے نمائندے ران بروس نے بھی واشنگٹن سے ہم آہنگ ایک موقف میں دعوی کیاکہ ایران ، علاقے میں بحران شدید ہونے کاسبب بنا ہے اور ایران شام میں مداخلت کررہا ہے ۔ اس نے اس پروپگنڈہ سازی  میں یہ بھی دعوی کیاکہ ایران بدستور علاقے اور مشرق وسطی کے علاقے میں امن کے قیام میں سب سے بڑی رکا وٹ ہے اور اس نے ایران کے خلاف مزید دباؤ بڑھائے جانے کا مطالبہ کیا ۔ اس میں کوئی شک نہيں کہ  مشرق وسطی کی صورتحال روز بہ روز بد تر ہو رہی ہے لیکن یہ جو امریکہ اور غاصب اسرائیل کی جانب سے ایران پر علاقے میں جنگ اور بحران میں اضافے کا عامل قرار دیئے جانے کا دعوی کیا جارہا ہے  یہ محض فریب ہے اور اس میں کوئی سچائی نہیں پائی جاتی ۔
اتفاق سے مشرق وسطی امن کے عمل سے متعلق  اقوام متحدہ کی رپورٹ ميں ، جو سلامتی کونسل کو پیش کی گئي ، مشرق وسطی میں جنگ اور کشیدگي  کے بنیادی حقائق کی جانب اشارہ کیا گياہے ۔ اس رپورٹ کے ایک حصے ميں فلسطینوں پر ہر روز اسرائیلی فوجیوں کے وحشیانہ حملوں اور فلسطینیوں کو گرفتار کرنے نیز ان کو ایذائین دیئے جانے کا ذکر کیا گيا ہے ۔ صہیونی حکومت ، کہ جس نے دہشت گردی اور بحران کھڑا کرنے کے ذریعے اپنے غیر قانونی وجود اور حکومت کا تحفظ کیا ہے ، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کر رہی ہے ۔ شام کے نمائندے نے بھی اس سلسلے ميں جو مستند رپورٹ سلامتی کونسل کوپیش کی ہے اس میں واضح طور پر کہا ہے کہ کس طرح سے اسرائیل کی جانب سے ہتھیار شام ميں دہشت گرد گروہوں کو فراہم کیا جارہا ہے ۔ اقوام متحدہ ميں شام  کے نمائندے بشار الجعفری نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اقوام متحدہ نے صہیونی حکومت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کے حوالے سے کوئي قدم نہيں اٹھایا ہے کہا کہ اسرائیل جولان کے مقبوضہ علاقے ميں شام کے مسلح مخالفین  کی مدد کررہا ہے انہوں نے صراحت سے کہا کہ جو ممالک شام میں مسلح دہشت گردوں کی حمایت کر رہے ہیں وہی اس ملک کو تباہ کرنے کا عامل ہیں اور شام کے بحران کے پرامن اور سیاسی حل میں رکاوٹ بنے ہوئے ہيں ۔ انہوں نے اس سلسلےميں قطر، ترکی ، سعودی عرب اور بعض مغربی ملکوں کی جانب بھی اشارہ کیا ۔
بالفاظ دیگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مشرق وسطی میں بحران اور جنگ کا گہرا رابطہ غاصب اسرائیل سےہے ۔ در حقیقت اسرائیل کے غاصبانہ قبضے سے مشرق وسطی کے علاقے میں امن و  سلامتی کو کافی نقصان پہنچا ہے اور اب صورتحال بہت خطرناک ہوگئی ہے ۔ عالمی برادری اب تک اسرائیل کو ، اس کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے ، اور اسرائیل کی کالونیوں کی تعمیر رکوانے یا صہیونی حکومت کی ایٹمی سرگرمیوں پر نگرانی جیسے مسائل کے بارےميں قانع نہیں کرسکی ہے  ۔ اسرائیل بدستور غیر قانونی کالونیوں کی تعمیر جاری رکھنے اور فلسطینوں کو بے گھر کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور منظم طور پر انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین  کی خلاف ورزی کر رہا ہے جبکہ امریکہ اور یورپ، اسرائیل کی جارحیت کے مقابلے میں اور فلسطینیوں کو ان کے حق سے محروم کئے جانے کے بارے میں خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں اور اس جارح اسرائيل کی ہمہ جانبہ حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ حال ہی میں یورپی یونین نے ایک حیرت انگيز قدم اٹھاتےہوئے حزب اللہ کی فوجی ونگ کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست ميں شامل کردیا ہے ۔ شاید موجودہ حالات ميں حقائق سے فرار کرنےکا سب سے آسان راستہ  ، دوسروں کے خلاف پروپگنڈہ کرنا اور الزامات  عائد کرنا ہے ۔لیکن اس حقیقت کا اعتراف کرنا چاہیے کہ اسرائیل کےلئے کی جانے والی یہی حمایتیں ہيں جو مشرق وسطی میں عالمی امن و سلامتی کے لئے اہم ترین خطرہ بنی ہوئی ہيں ۔

.......

/169